Posts

Showing posts with the label Prose Urdu

خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

Image
  وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ۔ خواتین اپنے مثبت رنگ کو پہچانیے۔ آپ کو پیار، محبت اور ایثار کا پیکر بنا کے تخلیق کیا گیا ہے۔ آپ کی تخلیق کا مقصد خالق کائنات کی طرف سے مہربانی، رحم، صلح جو معاملہ فہم اور شفقت جیسی اصناف ہیں۔ جھوٹ، فریب، چال بازیوں، غیبت، دھوکہ دہی، دوسروں کے ساتھ برا کرنے اور اپنی ہی صنف کے ساتھ دغابازیاں کر کے آپ اپنے حقیقی رنگوں کو خود مانند کردیں گی۔ آپ ماں ہیں تو اولاد کی تربیت آپ کا اولین فرض ہے اپنی تمام اولادوں میں انصاف رکھنا بیٹا ہو یا بیٹی بہترین پرورش کرنا اور اپنی تمام اولاد کو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا علم دینا تاکہ کوئی اپنے سے جڑے کسی بھی رشتے یا تعلق کے ساتھ جان بوجھ کے یا انجانے میں ناانصافی نہ کر جائے، یہ سکھانا اور تربیت  کرنا آپ کا فرض ہے ۔ آپ ساس ہیں تو اپنے بچوں کے گھروں کو ہنستے بستے رکھنا اور اپنی بہو اور داماد کو اپنی اولاد سمجھتے ہوئے ان کا بھی اپنی اولاد جیسا خیال رکھنا اور سب کے ساتھ  انصاف رکھنا آپ کا فرض ہے۔ آپ بہن ہیں تو آپ دوست ہیں ساتھی ہیں، ماں جائی ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کی اصلاح آپ کا فرض ہے انہیں غلط راستے سے روکنا...

اختیارات کا زوال (عالمی مزدور دن کی خصوصی پیش کش)

Image
"ہم سے بڑھ کر انصاف تو کوئی بھی نہیں کرے گا" کچھ مخصوص قسم کا غرور تھا جمیل صاحب کے لہجے میں۔ "سر آپ سے کچھ  درخواست ہے" اکرم نے جھجھکتے ہوئے کہا تھا۔ "کہو کیا کہنا ہے" " سر مجھسے میری بساط کے مطابق کام نہیں لیا جارہا ہے، سر نہ ہی مجھے کام کرنے دیا جارہا ہے میں کوشش کرتا ہوں اچھا کام کرنے کی تو مجھے روک دیا جاتا ہے۔" "اچھاااا! کون روک رہا ہے تجھے؟" انداز کافی دوستان تھا۔ "سر وہ اوپر سے لوگ مجھے کچھ نہیں کرنے دے رہے میں کیا کروں، ملازمت ضروری ہے میرے لیے میرے بچے میرا گھر پلتا ہے اسی ملازمت پہ کچھ نہیں کرونگا تو مجھے نکال دیا جائے گا۔ خدارا مجھے اتنا کام تو دیں کہ میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکوں". اکرم کی درخواست بہت عاجزانہ انداز میں تھی۔ "اچھا چل پھر ارشد آج سے اس کو ہی دیر تک روکنا اور جو بھی کام آئیں  اس کو دینا۔ ہاں بھئ اب ٹھیک ہے ناں؟ اب کرو کام سہی ہے". انداز کافی تکبر اور طاقت کا زعم لیے ہوئے تھا۔ "ٹھیک ہے سر" موقع کو غنیمت جان کر وہ خاموش ہو گیا تھا کہ اس سے زیادہ کیا کہے گا، تو جو مل رہا ...

بڑے بول

Image
'سو روپے کا سامان ان لوگوں کو کھلائیں گے کیسے؟' 'وہی تو میں بھی سوچ رہی ہوں'. 'بہت تیز لوگ ہیں بھئی ابھی سے لڑکی گھر والوں کے زریعے پتہ کروارہی ہے کی کمرے میں وال کلر کونسا ہورہا ہے' 'بہت تیز لڑکی یے۔' 'مجھے تو لگتا ہے ان لوگوں نے ابھی تک فرنیچر بھی نہیں بنوایا اسی لیے کلر کا پوچھنے آئے ہیں'. 'فرنیچر نہیں بنوایا؟؟ تو کب بنوائیں گے شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اب.' 'بچ کے رہنا بھائی بہت تیز لڑکی ہے بھئی'. 'مجھے تو یہی سوچ کے ٹینشن ہو رہی ہے کہ یہ سو روپے میں آئے سموسے چپس اور نمکو ان سمدھیانے والوں کو ٹھنسانے کے لیے جگر کہاں سے لائیں گے'. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معین کی عمر کافی زیادہ ہوگئی تھی، ماں اور بہنوں کے آئے دن کے نخرے اور ہر رشتے میں نقص نکالتے نکالتے نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اب اس کے جوڑ کے رشتے ملنے ہی مشکل ہوگئے تھے۔ ہر دوسرے دن اماں بہنیں بن ٹھن کے لڑکی دیکھنے نکلتیں اور واپسی میں کبھی قد چھوٹا،کبھی عمر زیادہ کبھی رنگ دبتا ہوا جیسے بہانے بنا کر بات دبا دیتیں۔ ایسا نہیں تھا کہ معین کوئی بہت حسین و جمیل...

رواں دواں زندگی / Rawa Dawa Zindagi

Image
رواں دواں زندگی روانی میں ہی تازگی ہے تسلسل ہی زندگی کا اصول ہے مستقل ٹھر جانے سے دریا بھی دریا نہیں رہتا کیچڑ بن جاتا ہے۔ زندگی میں ہر طرح کے مقام آتے ہیں کبھی خوشی تو کبھی غموں سے واسطہ پڑتا ہے اکثر خواب و ارمان بھی ادھورے رہ جاتے ہیں ان ٹوٹے جذبات و خواہشات پہ ہی خود کو محدود کردیں تو دل و دماغ کی زمین بنجر ہوجاتی ہے۔ چاہ کے بھی انسان خوش نہیں ہو پاتا رنج والم کی تصویر بن کے رہ جاتا ہے۔ خوابوں و خواہشات کے نہ پورا ہونے کا مطلب یہ نہیں کے ہم اس غم میں ہی قید ہو کر رہ جائیں۔ متبادل ڈھونڈنے سے اپنی ذات کی پیوندکاری ہوتی ہے۔ ٹوٹے ارمانوں کو رونے کا عمل آج ہی سے ترک کریں اور زندگی میں نئے متبادل ڈھونڈیے کیونکہ یہ وقت ہمیشہ نہیں رہے گا۔ بہتے دریا کی طرح رواں رہنے سے زندگی تازہ رہتی ہے۔ ازقلم عریشہ عابد۔✍

حاسدین / HASIDEEN

Image
حاسدین  اللّہ سب کو حسد اور کینہ رکھنے والے افراد سے حفوظ رکھے۔ کیونکہ ایسے لوگ، میاں بیوی میں رنجش پیدا کرنے، جلن اور حسد میں کسی کی اولاد کے ساتھ برا کرنے، دلوں میں دوریاں پیدا کرنے، کسی کو معاشی طور پر مستحکم دیکھ کر جلنے کڑھنے اور سب خود چھین لینے میں بلکل آر نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھول کر خوش ہوتے ہیں، کسی کو طنز و طعنہ دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ اپنی لگائی ہوئی آگ میں خود ہی جل رہے ہوتے ہیں۔ اللّہ ان کو مکافات عمل دکھا رہا ہوتا ہے، ان کے آگے ان کے کرنوں کا پھل واضح ہوتا ہے، اور یہ جانتے ہیں کہ یہ ان ہی کا بویا ہوا زہر ہے جو انکو ختم کر رہا ہے۔ پھر بھی یہ دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور بلاوجہ طعنہ و کوسنے دے کر خود کو مظلوم سمجھتے ہیں اور یہ سب کر کے وہ کسی اور کا نہیں اپنا نقصان کرتے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی زیادہ دیر تک کسی کے فضول قسم کے دباؤ اور گالیوں کو برداشت نہیں کرتا۔ ایسا کر کے یہ لوگ لوگوں کے دل میں اپنے لیے خود نفرت پیدا کرتے ہیں اور غلطی تسلیم کرنا تو دور یہ دوسروں کو ہی شرمندہ کرتے ہیں۔ کسی کے دل میں اپنے لیے محبت و ہمدردی گالیوں، کو...