Posts

Showing posts with the label Poetry Urdu

ناسمجھ محبت/ Na samajh Muhabbat

Image
نا سمجھ محبت ہماری برہمی تمہیں برداشت نہیں دل آزاری نزدیک تمہارے ہے نصیحت ہمارا روٹھنا کسی خاطر میں نہیں حال دل کہہ دینا بھی ایک مصلحت کبھی جو مانگ لیں چند لمحے اپنے لیے تو وہ بھی بہت بڑی مصیبت پروہ کرنا بھی ہمارا روک ٹوک لگے سمجھ سے بالا تر ہے جذبات کی شدت خاموشی ہمیں روندے جارہی ہے اب تھک چکے ہیں ہم فقط تکلیف ہماری تو تکلیف نہیں بس ایک ڈھونگ ہے ناں؟ جو سمجھ ہی نہ پائے درد کو وہ کہاں کی محبت؟ ازقلم عریشہ عابد ✍

دل اور میں / DIL AUR MAIN

Image
دل اداس ہے تو کیا😞 میں خود تو خوش ہوں 😊 ✍ عریشہ۔جاوید۔عابد

کشمیر پاکستانی ہے/ KASHMIR PAKISTANI HAI

Image
کشمیر پاکستانی ہے ۔ اک وادی تھی جنت کی نظیر اک وادی تھی خوشیوں کی زمیں جہاں محبت کی بولی بجتی تھی جہاں خوشیوں کی ڈولی سجتی تھی وہاں قدرت کی تھی بہتات بہت وہاں رنگوں کی تھی بہار بہت جہاں جھرنے بہتے تھے چشموں سے جہاں فضا رچی تھی خوشبوؤں سے پھر تقسیم کی یوں ہوا چلی آزادی کی تحریک اٹھی مقدر میں اس کے پاک نشان آیا باشندوں کی خوشیوں کا پیام آیا راتوں رات سازش کی بو پھیلی آزادی کی جگہ فتنے کی ریت چلی جو تھی جنت کی نظیر اسے جہنم بنادیا آزادی اس کے لیے مسئلہ بنادیا جہاں ہوا میں خوشبو بستی تھی وہاں بارود کی بو اٹھنے لگی جہاں محبت کی بولی بجتی تھی وہاں نفرت کی گونج اٹھنے لگی جہاں قدرت کی تھی بہتات بہت وہاں اب حیوانوں کا ہے راج بہت جہاں رنگوں کی تھی بہار ہر سو ظالموں نے بکھیر دیا لہو رنگ ہر سو جہاں قہقہوں کی گونج اٹھتی تھی وہاں اب معصوم آہیں گردش میں ہیں  بچے بوڑھے اور جوان سب ہیں کئی سالوں سے پریشان اے ظالم تجھ کو خبر نہیں قدرت کسی ظالم کو بخشتی نہیں انجام تیرا مثل فرعون ہوگا ظالم تو بھی عذاب کی نظر ہوگا آزادی حقِ انسانی ہے کشمیر پاکستانی ہے ازقلم عریشہ عابد۔ ✍

صبر / SABAR

Image
صبر انجان نہیں ہوں لاعلم بھی نہیں ہوں میں مطلب پرستوں کا کھلونا نہیں ہوں میں جو خاموش ہوں گر تو بے زباں نہیں ہوں میں وقت کے دھارے پہ چھوڑا ہے سب کو کوئی بچا ہے نہ بچے گا کہ رب کی لاٹھی بے آواز ہے کہ مفاد کی خاطر کھیلنا دلوں کو بےدردی سے توڑنا ہر اک شے کا احتساب ہونا ہے ہر ظلم پر جوابدہ ہونا ہے کہ رب کی بارگاہ میں لوگوں تمھارا حساب ہونا ہے۔ ازقلم عریشہ۔جاوید۔عابد ✍

خوش آمدید دسمبر 🌁 Khush amdeed December 🌁

Image
🌁 خوش آمدید دسمبر دسمبر چل پڑا گھر سے نومبر ہے وداع ہوا سرد موسم سرد لہجوں کا پھر ہے آغاز ہوا گئے دنوں کی یادیں پورے سال کا ہے موازنہ ہوا کیا کھویا کیا پایا اس کا سارا ہے حساب ہوا نتیجہ نکلا ہے اس پورے تحقیقات سے وقت ٹکتا نہیں دو گھڑی بھی کسی کے واسطے ابھی وقت ہے تھوڑ مہینہ اب بھی ہے باقی کہ جو کھویا کہ جو پایا اسے بھول کر پھر سے کریں آغاز نئی سوچ نئی کاوشوں کا کہ جتنا ہے بس میں اپنے کہ جتنا دم ہے اپنا زندگی ہے رواں دواں تو مہلت ہے ابھی ہمیں کہ آؤ قدم بڑھائیں پھر سے خوشیوں کی راہ میں گئے دنوں کی تلخ باتوں کو بھلا کر پھر سے جی لیں اس سال کے دسمبر کو طریقے سے کہ ہر بار کی طرح رونا سرد لہجوں کو بونا ضروری نہیں موسم ہے سرد تو دل بھی سرد ہو کہ پہلی بار اس دسمبر کا آغاز محبت اور گرمجوشی کے ساتھ ہو۔ ازقلم عریشہ عابد۔ ✍