گوشت کا ٹکڑا



میرے سینے میں جو جذبوں سے بھرا دھڑکتا یہ دل ہے
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے

میرے گیسوؤں کے تلے، خواب و خیال کا جہان آباد ہے
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے

میرے ہونٹوں کے گھیرے میں مقید
گونگے لفظوں کو آواز دیتی زبان
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے

میرے ہاتھوں کی گھسی انگلیاں
میرے پیروں کی پھٹی ایڑیاں
جو میری محنت و مشقت کی ہیں گواہ
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے

میرے وجود کو تولا رنگ میں
میرا معیار رکھا نسل میں
مجھے فوقیت دی صنف میں
میرا دام لگایا
مجھے چوک بٹھایا
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے

میں کام کروں تو میرا کام ہے
میں جان گھسوں تو میرا نام ہے
اے! نسل انسانی
خودی کو روند دیا تو نے
تیری اپنی نظر میں تیرا وجود
کہنے کو تو گوشت کا ٹکڑا ہے۔

✍🏻از قلم
عریشہ۔ج۔عابد

Comments

Popular posts from this blog

Book Review of "HUNGER" By Tanzeela K. Hassan

WELCOME DECEMBER🌁

Anxiety; The Quiet Storm